بنگلورو۔27؍اکتوبر(ایس اونیوز) وزیر صحت کے آر رمیش کمار نے کہاکہ نجی اسپتالوں کی طرف سے علاج کیلئے بھاری رقومات کی وصولی پر روک لگانے کے ساتھ محکمۂ صحت میں جامع پیمانے پر سدھار لایا جائے گا۔اس کیلئے حکومت ایک نیا ضابطہ لانے پر غور کررہی ہے۔ آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موجودہ قانون میں ترمیم کیلئے حکومت کی طرف سے جو پہل کی جارہی ہے اس پر انہوں نے ریاست کے سابق چیف جسٹس وکرم جیت سین کی قیادت میں ماہرین کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نجی طبی اداروں پر گرفت قائم کرنے کیلئے عوام کے مفاد میں ایک نیا قانون درکار ہے۔ کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ آٹھ ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔وہ اپنی رپورٹ میں طبی خدمات ان کی شرحیں اور بھاری رقومات وصول کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی وغیرہ تجویز کرے۔ انہوں نے کہاکہ اگلے تعلیمی سال سے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں میں درکار پوسٹ گریجویٹ اور ڈپلوما کورسس شروع کئے جائیں گے۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ محکمۂ صحت نے 167 نئی ایمبولنس خریدی ہیں۔ فی الوقت ریاست میں 1900ایمبولنس متعین ہیں۔ ہر پندرہ کلومیٹر پر ایک ایمبولنس مہیا کرائی گئی ہے۔ فوری طبی ضروریات کیلئے عوام 108 ڈایل کرکے ایمبولنس طلب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسپتالوں کیلئے درکار دواؤں کی تقسیم حکومت کو اب اسپتالوں کی طرف سے آن لائن مہیا کرانی ہوگی۔ مرکزی حکومت کے اشتراک سے ریاست میں 200 اسپتالوں میں جن اوشدی مراکز کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایاکہ ریاست کے تمام 146 تعلقہ اسپتالوں میں ڈیالیسس مراکز کھولے جائیں گے۔34اسپتالوں میں پہلے ہی نجی اشتراک سے ڈیالیسس مراکز قائم کئے جاچکے ہیں۔ ہر تعلقہ اسپتال میں لازمی طور پر ڈیالیسس مرکز قائم کرنے پر محکمہ زور دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے ہر تعلقہ اسپتال میں لازمی طور پر آئی سی یو خدمات فروری سے شروع کی جائیں گی۔ہر آئی سی یو وارڈ میں تین بستر ہوں گے اس پر 27لاکھ روپے فی یونٹ خرچ آئے گا۔ 15لاکھ روپے رکن پارلیمان کے فنڈ سے لئے جائیں گے اور بارہ لاکھ روپے محکمۂ صحت برداشت کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہر آئی سی یو میں ٹیلی میڈیسن سہولت مہیا کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ جنوری سے ضلع اور تعلقہ سطح پر اسپتالوں میں کینٹین قائم کئے جائیں گے، جہاں پر رعایتی شرحوں پر کھانا مہیا کرایا جا ئے گا۔ چار روپے میں اڈلی ، آٹھ روپے میں چپاتی ، اور آٹھ روپے میں چاول مہیا کرانے کے ساتھ مفت چھاچھ بھی دی جائے گی۔ استری شکتی سیلف ہیلپ گروپوں کو یہ کینٹین کھولنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ جنوری سے ضلع اور تعلقہ اسپتالوں میں صاف پانی کی یونیٹں قائم کی جائیں گی۔